بچوں میں مطالعہ کے فروغ کے لیے ”کتاب پڑھیے، تبصرہ لکھیے“ مقابلہ
انجمن
ادبِ اطفال تلنگانہ کے زیر اہتمام بچوں میں مطالعہ کا ذوق بیدار کرنے، کتاب بینی،تہذیب
وثقافت کو فروغ دینے اور نئی نسل کو علم و ادب سے جوڑنے کے مقصد سے ”کتاب پڑھیے،
تبصرہ لکھیے“ کے عنوان سے ریڈنگ اینڈ بک ریویو مقابلہ 12جون ۶۲۰۲ئکو ٹمریز، یاقوت پورہ
بوائز 1 اسکول، مغل پورہ حیدرآباد پرکامیابی کے ساتھ انعقادعمل میں آیا۔یہ مقابلہ
ہائی اسکول اور جونیئر کالج کے طلبا وطالبات کے لیے رکھا گیاجس میں طلبہ نے جوش و
خروش کے ساتھ حصہ لیا۔مقابلہ کی نوعیت یہ رہی کہ شرکاء کے لیے اس میلہ میں بچوں کی
کہانیاں،اخلاقی و تاریخی کتابیں،شاعری کی کتابیں،ادب،شخصیات پر کتابیں فراہم کی گئی۔بچوں
نے اپنی پسندکی کتابوں کا مطالعہ کرکے ان پر تحریری اور زبانی تبصرے پیش کیے، جن میں
کتاب کا تعارف، مصنف کا نام، مرکزی خیال، اہم کردار اور حاصل مطالعہ اسباق کو مؤثر
انداز میں بیان کیا گیااور مطالعہ کے ذریعے پیغام دیاگیا۔
بروز
اتوار صبح پروگرام کا آغاز محمد عبدالرحمن کے تلاوت قرآن سے عمل میں آیا۔ڈاکٹر عزیز
سہیل صدر انجمن اطفال تلنگانہ نے شرکاء کاخیر مقدم کیا اور خطبہ استقبالیہ پیش کیا۔ڈاکٹر
سہیل نے مطالعہ کی اہمیت اور تبصرہ نگاری کے فن پر روشنی ڈالی،مقابلہ کے انعقاد کے
مقاصد بیان کیے۔ انہوں نے کہا کہ انجمن ادبِ اطفال تلنگانہ کا بنیادی مقصد بچوں میں
مطالعہ، تخلیقی صلاحیتوں اور مثبت فکری رجحانات کو فروغ دینا ہے۔ انہوں نے کہا کہ
مسلسل جستجو، محنت اور مطالعہ ہی کامیابی کی منزل تک پہنچنے کا راستہ ہے۔ طلبہ کو
چاہیے کہ وہ کتابوں سے دوستی کریں اور علم کے حصول کو اپنی زندگی کا مقصد بنائیں۔
انہوں نے کہا کہ مثبت سوچ اور تعمیری فکر انسان کو ترقی کی راہوں پر گامزن کرتی
ہے۔
ڈاکٹر
محمد ناظم علی،موظف پرنسپل، گورنمنٹ ڈگری کالج موڑتاڑ نے کتاب بینی کی اہمیت پر
تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ مطالعہ انسان کی ذہنی، فکری اور اخلاقی تربیت کا
مؤثر ذریعہ ہے۔ اگر بچوں کو کم عمری ہی سے پڑھنے اور لکھنے کی عادت ڈالی جائے تو
ان میں اظہارِ خیال، تنقیدی سوچ اور تخلیقی صلاحیتیں پروان چڑھتی ہیں۔ انہوں نے
کہا کہ دنیا کے عظیم مفکرین، سائنس دان، ادیب اور قائدین کتابوں سے گہرا تعلق
رکھتے تھے، اسی لیے وہ معاشرے میں نمایاں مقام حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔حافظ
عبدالمعید نے نظامت کے فرائض انجام دئے۔
افتتاحی
اجلاس کے فوری بعدمطالعہ شرکاء کے لیے ایک گھنٹہ کا وقت دیاگیا۔مطالعہ کے بعد تحریری
تبصرہ کے لیے ایک گھنٹہ کا وقت فراہم کیا گیا۔اس کے بعد تقریری(زبانی) تبصرہ کے لیے
شرکاء کو موقع فراہم کیا گیا۔ جس میں طلبہ نے جوش و خروش کے ساتھ حصہ لیا۔
مقابلہ
کے بعد جلسہ تقسیم انعامات کا انعقاد عمل میں آیا۔جلسہ سے مخاطب کرتے ہوئے محسن
خان معتمد انجمن اطفال تلنگانہ نے کہا کہ
ٹیکنالوجی کے اس جدید دور میں مطالعہ کے ذرائع بدل گئے ہیں اور لوگ آن لائن کتابیں
اور اخبارات بھی پڑھ رہے ہیں، تاہم مطالعہ میں سنجیدگی اور یکسوئی برقرار رکھنا
ضروری ہے۔ انہوں نے غیر ضروری سوشل میڈیا کے استعمال سے گریز کرتے ہوئے تعمیری علم
حاصل کرنے کی تلقین کی۔
جناب
لیاقت علی معتمد اردو اکیڈیمی جدہ، حیدرآباد چیپٹر نے کہا کہ آج کے مقابلے میں
اسکول اور کالج کے طلبہ نے کتابوں کا مطالعہ کرکے تحریری اور تقریری شکل میں اپنے
خیالات کا بہترین اظہار کیا، جو ان کی صلاحیتوں کا واضح ثبوت ہے، والدین پر زور دیا
کہ وہ بچوں کی تعلیم و تربیت پر خصوصی توجہ دیں اور انہیں ادبی و علمی سرگرمیوں میں
حصہ لینے کی ترغیب دیں تاکہ ان کی تخلیقی صلاحیتوں کو جِلا مل سکے۔
محمد
محمودمدرس نے کہا کہ بچوں کو ادب، تہذیب اور علمی سرگرمیوں سے جوڑنا وقت کی اہم
ضرورت ہے۔ والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ بچوں کے وقت اور سرگرمیوں پر نظر رکھیں اور
انہیں مثبت اور تعمیری مصروفیات کی جانب راغب کریں۔
اس موقع پرمہمان خصوصی محمد سلیم فاروقی صدر اردو اکیڈیمی
جدہ، حیدرآباد چیپٹر نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ اس طرح کے علمی و ادبی مقابلے
طلبہ کو کتابوں سے جوڑنے اور مطالعہ کی عادت کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتے
ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کتاب سے بہتر کوئی دوست اور رہنما نہیں ہوسکتا۔ مطالعہ انسان
کی فکر کو وسعت دیتا ہے اور شخصیت کو نکھارتا ہے۔ انہوں نے محبانِ اردو پر زور دیا
کہ اردو زبان و ادب کے فروغ کے لیے سرگرم اداروں کا بھرپور تعاون کریں۔
جناب
لیاقت علی،حافظ عبدالمعید خازن انجمن ادبِ اطفال تلنگانہ نے مقابلہ کے انعام یافتگان
کا اعلان کیا۔ اسکول کی سطح پرانعام اول ایک ہزار روپے نقدمحمد صدیق جماعت دہم ٹمریز
یاقوت پورہ بوئز۱،،
انعام دوم پانچ سو روپے نقدانشاء مرزاجماعت دہم ٹمریز صنعت نگر گرلز۱، جبکہ انعام سوم دوسو
روپئے نقد ومیڈل نافیہ انساء جماعت نہم زیڈ پی ایچ ایس پہاڑی شریف نے حاصل کیا
طلبہ کو سندِ اعزاز اور کتاب پر مشتمل تحفہ پیش کیا گیا۔کالج کی سطح پر انعام اول
ایک ہزار روپے نقدثناء فاطمہ ٹمریز صنعت نگر گرلز۱کالج،، انعام دوم پانچ سو
روپے نقدامین الاسلام ٹمریز یاقوت پورہ بوئز۱کالج، جبکہ انعام سوم
دوسو روپئے نقد ومیڈل سجان تبسم ٹمریز صنعت نگر گرلز۱کالج نے حاصل کیا۔مہمانوں
کے ہاتھوں طلبہ میں انعامات تقسیم کئے گئے۔
ڈاکٹر عزیز سہیل نے کہا کہ آئندہ
بھی طلبہ کی علمی و ادبی صلاحیتوں کے فروغ کے لیے اس نوعیت کے مقابلوں کا انعقاد
جاری رکھا جائے گا۔اس موقع پر اعزازی مہمانان خلیل احمد، محمد عبدالمعیز، مولانا
شاہ عالم نے شرکت کی۔ مختلف اسکولوں اور کالجوں کے طلبہ، ان کے سرپرستوں اور دیگر
معزز افراد کی بڑی تعداد موجود تھی۔


if you have any doubts.Please let me know