google.com, pub-7579285644439736, DIRECT, f08c47fec0942fa0 بچوں کا اردوکتاب میلہ، حیدرآباد

بچوں کا اردوکتاب میلہ، حیدرآباد

0


رپورتاژ:

بچوں کا اردوکتاب میلہ، حیدر آباد

ڈاکٹر عزیز سہیل

                اردو ادب کے حوالہ سے حیدرآباد دکن اپنی ایک منفرد اور نمایاں شناخت رکھتا ہے، کیونکہ یہ شہر صدیوں سے علم و ادب، شعر و سخن اور تہذیبی روایتوں کا گہوارہ رہا ہے۔ یہاں کی دکنی اردو نے زبان کو ایک الگ رنگ و آہنگ بخشا، جس میں مقامی ثقافت، سادگی اور شیرینی جھلکتی ہے۔ قطب شاہی اور آصف جاہی ادوار میں ادب کی سرپرستی نے شاعروں، ادیبوں اور اہلِ قلم کو فروغ دیا، جس کے نتیجے میں حیدرآباد دکن اردو ادب کا ایک اہم اور معتبر مرکز بن گیا، جہاں کلاسیکی روایت اور جدید رجحانات خوبصورتی سے یکجا نظر آتے ہیں۔

                حیدرآباد میں بچوں کے ادب کی تاریخ خاصی تابناک رہی ہے، جہاں کہانیوں، نظموں اور رسائل کے ذریعے بچوں کی ذہنی و اخلاقی تربیت پر توجہ دی گئی۔ انجمنوں، ادبی اداروں اور اہلِ قلم کی کوششوں سے بچوں کے لیے معیاری اور دلچسپ ادب تخلیق ہوا، جس نے نسلِ نو میں مطالعے کا شوق پیدا کیا۔بچوں کا ادب تخلیق کرنے والوں میں چند نمایاں نام مسعود جاوید ہاشمی،رحمان جامی،طیبہ بیگم،پروفیسر مجید بیدار،ڈاکٹر رو ف خیر،ڈاکٹر م ق سلیم،ڈاکٹر سید عبا س متقی،ڈاکٹر ایم اے قدیرو دیگرکے شامل ہیں۔عصر حاضر میں ادب اطفا ل کی بقاو ترقی کی کوششیں کم ہوگئی ہے اس کمی کو دور کرنے کے مقصد سے حالیہ دنوں ایک انجمن،انجمن ادب اطفا ل تلنگانہ کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔جس کے پہلے پروگرام کے طور پر بچوں کا اردو کتاب میلہ کا ارد و گھر مغلپورہ،حیدرآبادپر10جنوری 2026بروز ہفتہ کامیاب انعقاد عمل میں آیا۔

         اس میلہ کے انعقاد کے لیے انجمن کے ذمہ داروں نے مسلسل ایک ہفتہ محنت کی 50سے زائد اسکولوں کو پروگرام میں شرکت کی دعوت دی گئی ساتھ ہی قومی سطح کے اشاعتی اداروں کومدعو کیاگیا۔10جنوری کی صبح ہی سے ارد و گھر مغلپورہ، پر بچوں کی آمد کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا۔مہمانان بھی وقت کی پابندی کے ساتھ حاضر ہوئے۔ڈاکٹر عزیز سہیل،حافظ عبدالمعیدنے مہمانوں کا استقبال کیا۔سید جاوید محی الدین نے نظامت کے لیے مائیک سنبھالا اور سب کو خوش آمدید کہا۔میلہ کا افتتاح ڈاکٹر سید اسلام الدین مجاہد اور ڈاکٹر سید فاضل حسین پرویز کے ہاتھوں عمل میں آیا۔ تقریب کا آغازحافظ عبدالمعید کی قرأت کلام پاک سے ہوا،محمد عفان نے نعت اور نظم ’اردو ہے میرا نام‘پڑھی۔سید جاوید محی الدین نے ڈاکٹر عزیز سہیل کو خطبہ استقبالیہ کے لیے دعوت دی،ڈاکٹرعزیز سہیل نے انجمن کے قیام اوراردو کتاب میلہ کے انعقاد کے مقصدکوبیان کیا۔ ڈاکٹر محمد توقیر عالم راہی،انچارج ساوتھ ریجن قومی کونسل برائے فروغ اردوزبان، ایم ایس فاروق معتمد آل انڈیا مسلم ایجوکیشنل سوسائٹی، سلیم فاروقی جدہ اردو اکیڈیمی نے اس موقع پرمنعقد ہ تقریب سے خطاب فرمایا۔ڈاکٹرمحمد ناظم علی سرپرست انجمن ادب اطفال تلنگانہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ مادری زبان میں تعلیم و اظہار انسان کی فکری نشوونما کے لیے نہایت ضروری ہے۔ اردو کو صرف گھروں تک محدود نہ رکھیں بلکہ تعلیم، صحافت، ادب اور جدید ٹکنالوجی کے میدان میں بھی اس کے فروغ کے لیے عملی کوشش کریں۔ڈاکٹرمحمد اسلم فاروقی، پرنسپل گورنمنٹ ڈگری کالج،ظہیر آبادنے کہاکہ بچوں کے رسائل کے ذریعے بچوں میں اچھی عادتیں، اخلاقی اقدار اور قومی و سماجی شعور پروان چڑھتا ہے۔ مادری زبان میں شائع ہونے والے بچوں کے رسائل زبان کی بنیاد مضبوط کرتے ہیں اور بچوں کو اپنی تہذیب و ثقافت سے جوڑے رکھتے ہیں۔آج کے ڈیجیٹل دور میں بچوں کے رسائل کی افادیت مزید بڑھ گئی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ والدین اور اساتذہ بچوں کو رسائل پڑھنے کی ترغیب دیں تاکہ ایک باشعور، بااخلاق اور کتاب دوست نسل تیار ہو سکے۔

        ڈاکٹر اسلام الدین مجاہداسکالر نے کہا کہ کتاب سے دوستی، کامیابی کی کنجی ہے۔ جو طالب علم موبائل کے بجائے کتاب کو ترجیح دیتا ہے، وہی روشن مستقبل کی بنیاد رکھتا ہے۔اردو ہماری مادری زبان ہی نہیں بلکہ ہماری تہذیب، تاریخ اور مشترکہ ثقافت کی امین بھی ہے۔ اردو نے ہمیں عظیم شعرا، ادبا اور دانشور عطا کیے جن کی تخلیقات آج بھی دلوں کو روشن کرتی ہیں۔ڈاکٹر سید فاضل حسین پرویز،مدیر گواہ،نے اپنے صدارتی خطاب میں کہاکہ اردو ہماری پہچان ہے، ہماری میراث ہے، اور اس کی حفاظت و ترویج ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔چوں کے رسائل بچوں کی ذہنی، اخلاقی اور تعلیمی تربیت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ رسائل نہ صرف بچوں میں مطالعہ کی عادت پیدا کرتے ہیں بلکہ ان کی تخیل، زبان اور سوچ کو بھی نکھارتے ہیں۔

                افتتاحی اجلاس کے فوری بعدتحریری مقابلہ بعنوان”کتاب میری بہترین دوست“ منعقدہوا جس میں تقریباََ150طلباء و طالبات نے حصہ لیا۔جس کے ججس صاحبان ڈاکٹر ناظم علی اورمحمدلیاقت علی تھے۔تحریری مقابلہ میں انعام او ل ایک ہزار روپئے نقد بسمہ فاطمہ جماعت نہم اذان انٹرنیشنل اسکول،انعام دوم پانچ سور روپئے نقدبشر یٰ فاطمہ ٹمریز صنعت نگرگرلز1،ترغیبی انعام دو سور روپئے نقدنازنین فاطمہ جماعت دہم ریڈینٹ مشن ہائی اسکول،ترغیبی انعام دو سور روپئے نقدثنا فاطمہ سینٹ مریم ہائی اسکول،اورترغیبی انعام دو سور روپئے نقد محمد فیضان جماعت دہم zphsدریچہ بواہیر،کودیا گیا۔

                12بجے دن تقریری مقابلہ بعنوان’اردو ہماری مادر زبان‘کا انعقاد عمل میں آیا جس میں 60طلباء و طالبات نے حصہ لیا۔جس کے ججس صاحبان سید جاوید محی الدین،سید شاہد علی حسرت تھے۔تقریری مقابلہ میں انعام او ل ایک ہزار روپئے نقدثنا فاطمہ سینٹ مریم ہائی اسکول،انعام دوم پانچ سور روپئے نقدصباء فاطمہ جماعت دہم ریڈینٹ مشن ہائی اسکول،ترغبیی انعام دو سور روپئے نقد سکینہ فاطمہ،گورنمنٹ ہائی اسکول غوث نگر،ترغیبی انعام دو سور روپئے نقد محمد عارض اذان انٹر نیشنل اسکول اور ترغیبی انعام دو سور روپئے نقددنیہ فاطمہ پی ایم شری گورنمنٹ گرلز رسول پورہ نے حاصل کیا۔

           2 بجے دن اردو کوئز منعقد ہوا جس میں تقریباََ 100طلبہ نے حصہ لیا۔جس کے ججس صاحبان سید غازی الدین،محمدمحمود تھے۔اردو کوئزمیں انعام او ل صباء فاطمہ صنعت نگرگرلز1،انعام دوم انشاء مرزا، انعام سوم حفصہ ریان ولد ایم ایس اسکول نے حاصل کیا۔

        دوپہر 2:30بجے بچوں کے پروگرام کے تحت کہانی سنانے کا سیشن،میراپسندیدہ شعر جیسے مقابلے منعقد ہوئے جس میں بچوں نے جوش وخروش کے ساتھ حصہ لیا اور انعام حاصل کیا۔دوپہر تین بجے بچوں کے ادیب وشعراء سے ملا قات پروگرام میں فضل احمد اشرافی، سید جاوید محی الدین اورداکٹر سید اسرار الحق سبیلی نے بچوں سے گفتگو کی اور ان کو مشورے دیئے۔

                اردو میلہ کے آخری سیشن میں ڈاکٹر محمد اسلم فاروقی،ڈاکٹر ناظم علی،مولانا محمد ہلال اعظمی،جناب ذکی جمال نے خطاب کیا۔ جناب طارق انصاری، صدر نشین تلنگانہ اقلیتی کمیشن نے اپنے خطاب میں کہاکہ کتاب انسان کو علم، اخلاق اور شعور عطا کرتی ہے،یہ خاموش مگر سچی دوست ہے،،مطالعہ انسان کی شخصیت کو نکھارتا اور فکر کو وسعت دیتا ہے۔ کتابیں علم، اخلاق اور شعور کی بہترین رہنما ہیں۔ جو طالب علم روزانہ کچھ وقت مطالعہ کے لیے مخصوص کرتا ہے، وہ علم کے ساتھ ساتھ اعتماد بھی حاصل کرتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آج کے دور میں موبائل فون ایک مفید ذریعہ ضرور ہے، لیکن اس کا بے جا استعمال وقت، توجہ اور ذہنی صلاحیت کو نقصان پہنچاتا ہے۔    میلہ میں قومی سطح کے مختلف اشاعتی ادارے (پبلشرز) جن میں قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان نئی دہلی،نیشنل بک ٹرسٹ دہلی،مرکزی مکتبہ اسلامی نئی دہلی،رحمانی پبلیکیشنز مالیگاوں،مصطفی پبلیکیشنز مالیگاوں،انویشی پبلیکیشنز حیدرآباد،نصر اردو پبلشرز نے شرکت کی۔

                میلہ میں محمدلیاقت علی،ڈاکٹرسید حبیب امام قادری،جہانگیر قیاس، ڈاکٹر محامد ہلال اعظمی،ڈاکٹر عبدالقدوس،شاہد علی حسرت،محمدغازی الدین،محمدسمیع الدین،محمد محمود،محمد حسام الدین،محمد احمد،محمد شاہ عالم،محمد عبدالعزیز عزیز،مجید نور،اعجا ز علی قریشی،واحد علی خان، اورشکیل ظہیرآبادی،ارشد حسین ودیگرنے شرکت کی۔ اس کے علاوہ مختلف اسکولس کے طلبہ اپنے والدین کے سات میلہ میں شرکت کرتے ہوئے مختلف مقابلوں میں حصہ لیا اور کتابیں خریدیں۔ اردو گھرمغل پورہ تنگ دامنی کا شکواہ کررہا تھا۔ طارق انصاری  صدر نشین تلنگانہ اقلیتی کمیشن کے ہاتھوں مقابلوں میں کامیاب طلبہ میں انعامات تقسیم کئے گئے۔ 70ہزار روپئے کی اردو کتابیں اس موقع پرفروخت ہوئیں۔محسن خاں حافظ عبدالمعید،محمد عبدالعزیز عزیز نے انتظامات انجام دیئے۔



 


ایک تبصرہ شائع کریں

0تبصرے

if you have any doubts.Please let me know

ایک تبصرہ شائع کریں (0)

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Check Now
Accept !