بچوں کا اردوکتاب میلہ، حیدر آباد
ڈاکٹر عزیز سہیل
اردو
ادب کے حوالہ سے حیدرآباد دکن اپنی ایک منفرد اور نمایاں شناخت رکھتا ہے، کیونکہ یہ
شہر صدیوں سے علم و ادب، شعر و سخن اور تہذیبی روایتوں کا گہوارہ رہا ہے۔ یہاں کی
دکنی اردو نے زبان کو ایک الگ رنگ و آہنگ بخشا، جس میں مقامی ثقافت، سادگی اور شیرینی
جھلکتی ہے۔ قطب شاہی اور آصف جاہی ادوار میں ادب کی سرپرستی نے شاعروں، ادیبوں اور
اہلِ قلم کو فروغ دیا، جس کے نتیجے میں حیدرآباد دکن اردو ادب کا ایک اہم اور
معتبر مرکز بن گیا، جہاں کلاسیکی روایت اور جدید رجحانات خوبصورتی سے یکجا نظر آتے
ہیں۔
ڈاکٹر اسلام الدین مجاہداسکالر نے کہا کہ
کتاب سے دوستی، کامیابی کی کنجی ہے۔ جو طالب علم موبائل کے بجائے کتاب کو ترجیح دیتا
ہے، وہی روشن مستقبل کی بنیاد رکھتا ہے۔اردو ہماری مادری زبان ہی نہیں بلکہ ہماری
تہذیب، تاریخ اور مشترکہ ثقافت کی امین بھی ہے۔ اردو نے ہمیں عظیم شعرا، ادبا اور
دانشور عطا کیے جن کی تخلیقات آج بھی دلوں کو روشن کرتی ہیں۔ڈاکٹر سید فاضل حسین
پرویز،مدیر گواہ،نے اپنے صدارتی خطاب میں کہاکہ اردو ہماری پہچان ہے، ہماری میراث
ہے، اور اس کی حفاظت و ترویج ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔چوں کے رسائل بچوں کی
ذہنی، اخلاقی اور تعلیمی تربیت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ رسائل نہ صرف بچوں
میں مطالعہ کی عادت پیدا کرتے ہیں بلکہ ان کی تخیل، زبان اور سوچ کو بھی نکھارتے ہیں۔
افتتاحی
اجلاس کے فوری بعدتحریری مقابلہ بعنوان”کتاب میری بہترین دوست“ منعقدہوا جس میں
تقریباََ150طلباء و طالبات نے حصہ لیا۔جس کے ججس صاحبان ڈاکٹر ناظم علی اورمحمدلیاقت
علی تھے۔تحریری مقابلہ میں انعام او ل ایک ہزار روپئے نقد بسمہ فاطمہ جماعت نہم
اذان انٹرنیشنل اسکول،انعام دوم پانچ سور روپئے نقدبشر یٰ فاطمہ ٹمریز صنعت
نگرگرلز1،ترغیبی انعام دو سور روپئے نقدنازنین فاطمہ جماعت دہم ریڈینٹ مشن ہائی
اسکول،ترغیبی انعام دو سور روپئے نقدثنا فاطمہ سینٹ مریم ہائی اسکول،اورترغیبی
انعام دو سور روپئے نقد محمد فیضان جماعت دہم zphsدریچہ بواہیر،کودیا گیا۔
12بجے
دن تقریری مقابلہ بعنوان’اردو ہماری مادر زبان‘کا انعقاد عمل میں آیا جس میں
60طلباء و طالبات نے حصہ لیا۔جس کے ججس صاحبان سید جاوید محی الدین،سید شاہد علی
حسرت تھے۔تقریری مقابلہ میں انعام او ل ایک ہزار روپئے نقدثنا فاطمہ سینٹ مریم ہائی
اسکول،انعام دوم پانچ سور روپئے نقدصباء فاطمہ جماعت دہم ریڈینٹ مشن ہائی
اسکول،ترغبیی انعام دو سور روپئے نقد سکینہ فاطمہ،گورنمنٹ ہائی اسکول غوث نگر،ترغیبی
انعام دو سور روپئے نقد محمد عارض اذان انٹر نیشنل اسکول اور ترغیبی انعام دو سور
روپئے نقددنیہ فاطمہ پی ایم شری گورنمنٹ گرلز رسول پورہ نے حاصل کیا۔
2 بجے دن اردو کوئز منعقد ہوا جس میں
تقریباََ 100طلبہ نے حصہ لیا۔جس کے ججس صاحبان سید غازی الدین،محمدمحمود تھے۔اردو
کوئزمیں انعام او ل صباء فاطمہ صنعت نگرگرلز1،انعام دوم انشاء مرزا، انعام سوم
حفصہ ریان ولد ایم ایس اسکول نے حاصل کیا۔
دوپہر 2:30بجے بچوں کے پروگرام کے تحت
کہانی سنانے کا سیشن،میراپسندیدہ شعر جیسے مقابلے منعقد ہوئے جس میں بچوں نے جوش
وخروش کے ساتھ حصہ لیا اور انعام حاصل کیا۔دوپہر تین بجے بچوں کے ادیب وشعراء سے
ملا قات پروگرام میں فضل احمد اشرافی، سید جاوید محی الدین اورداکٹر سید اسرار
الحق سبیلی نے بچوں سے گفتگو کی اور ان کو مشورے دیئے۔
اردو
میلہ کے آخری سیشن میں ڈاکٹر محمد اسلم فاروقی،ڈاکٹر ناظم علی،مولانا محمد ہلال
اعظمی،جناب ذکی جمال نے خطاب کیا۔ جناب طارق انصاری، صدر نشین تلنگانہ اقلیتی کمیشن
نے اپنے خطاب میں کہاکہ کتاب انسان کو علم، اخلاق اور شعور عطا کرتی ہے،یہ خاموش
مگر سچی دوست ہے،،مطالعہ انسان کی شخصیت کو نکھارتا اور فکر کو وسعت دیتا ہے۔ کتابیں
علم، اخلاق اور شعور کی بہترین رہنما ہیں۔ جو طالب علم روزانہ کچھ وقت مطالعہ کے لیے
مخصوص کرتا ہے، وہ علم کے ساتھ ساتھ اعتماد بھی حاصل کرتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا
کہ آج کے دور میں موبائل فون ایک مفید ذریعہ ضرور ہے، لیکن اس کا بے جا استعمال
وقت، توجہ اور ذہنی صلاحیت کو نقصان پہنچاتا ہے۔ میلہ میں قومی سطح کے مختلف اشاعتی ادارے
(پبلشرز) جن میں قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان نئی دہلی،نیشنل بک ٹرسٹ دہلی،مرکزی
مکتبہ اسلامی نئی دہلی،رحمانی پبلیکیشنز مالیگاوں،مصطفی پبلیکیشنز مالیگاوں،انویشی
پبلیکیشنز حیدرآباد،نصر اردو پبلشرز نے شرکت کی۔
میلہ
میں محمدلیاقت علی،ڈاکٹرسید حبیب امام قادری،جہانگیر قیاس، ڈاکٹر محامد ہلال اعظمی،ڈاکٹر
عبدالقدوس،شاہد علی حسرت،محمدغازی الدین،محمدسمیع الدین،محمد محمود،محمد حسام الدین،محمد
احمد،محمد شاہ عالم،محمد عبدالعزیز عزیز،مجید نور،اعجا ز علی قریشی،واحد علی خان،
اورشکیل ظہیرآبادی،ارشد حسین ودیگرنے شرکت کی۔ اس کے علاوہ مختلف اسکولس کے طلبہ
اپنے والدین کے سات میلہ میں شرکت کرتے ہوئے مختلف مقابلوں میں حصہ لیا اور کتابیں
خریدیں۔ اردو گھرمغل پورہ تنگ دامنی کا شکواہ کررہا تھا۔ طارق انصاری صدر نشین تلنگانہ اقلیتی کمیشن کے ہاتھوں
مقابلوں میں کامیاب طلبہ میں انعامات تقسیم کئے گئے۔ 70ہزار روپئے کی اردو کتابیں
اس موقع پرفروخت ہوئیں۔محسن خاں حافظ عبدالمعید،محمد عبدالعزیز عزیز نے انتظامات
انجام دیئے۔

.jpg)


if you have any doubts.Please let me know